مسئلہ کیا یہ روایت درست ہے کہ۔ بوقتِ جماہی اگر منھ نہ ڈھکا جائے یا جماہی نہ روکا جائے تو شیطان منھ میں گھُس جاتا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
روایت درست ہے
جماہی شیطان کی طرف سے ہےاسےروکنےکی ہرممکن کوشش کرنی چاہئےاگرنہ رکےتوبایاں ہاتھ منھ پررکھ کرمنھ ڈھاک لے
حدیث شریف میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جماہی شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ممکن ہو رُوکے۔؛ اس حدیث کو امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں روایت کیا، بلکہ بعض روایتوں میں ہے، کہ "شیطان مونھ میں گُھس جاتا ہے -"بعض میں ہے، شیطان دیکھ کر ہنستا ہے۔
علماءفرماتے ہیں: کہ" جو جماہی میں مونھ کھول دیتا ہے، شیطان اس کے مونھ میں تھوک دیتا ہے اور وہ جو قاہ قاہ کی آواز آتی ہے،وہ شیطان کا قہقہہ ہے کہ اس کا مونھ بگڑا دیکھ کر ٹھٹھا لگاتا ہے اور وہ جو رطوبت نکلتی ہے، وہ شیطان کا تھوک ہے۔"اس کے روکنے کی بہتر ترکیب یہ ہے کہ جب آتی معلوم ہو تو دل میں خیال کرے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ وا لسّلام اس سے محفوظ ہیں، فوراً رُک جائے گی۔
(بہارشریعت حصہ سوم صفحہ ٦٢٩)
یہاں تک کہ نمازمیں بھی جما ہی روکنےکاحکم ہے جیساکہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ
نماز میں بالقصدجماہی لینامکروہ تحریمی ہے اورخودآئےتوحرج نہیں،مگرروکنامستحب ہےاوراگرروکےسےنہ رکےتوہونٹ کودانتوں سےدبائے اوراس پربھی نہ رکےتوداہناہاتھ یابایاں ہاتھ منھ پررکھ دےیاآستین سےمنھ چھپالے،قیام میں دہنےہاتھ سےڈھانکےاوردوسرےموقع پربائیں سے۔(مراقی الفلاح) بہارشریعت حصہ سوم صفحہ ٦٢٩
معلوم ہوا کہ جماہی شیطان کی طرف سے ہےاسےنمازمیں بھی روکنےکی ممکن کوشش کرنی چاہئیے اورغیر نماز میں توبدرجۂ اولی، جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اس موافق جماہی آسانی روک سکتے ہیں
والله تعالیٰ اعلم
۲۹ ربیع الاوّل ۱۴۴٦ ھجری
۳ اکتوبر ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
متفرقات