مسئلہ:- سوتیلی خالہ یعنی یعنی نانا کی دوسری بیوی کی لڑکی جو ماں کی سگی بہن نہیں ہے اس سے نکاح کرنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خالہ سگی ہو یا سوتیلی، اس سے نکاح کرنا حرام قطعی ہے، حقیقی ماں کی سوتیلی (باپ شریک) بہن سے نکاح کرنا حرام ہے۔اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ﴾ (پارہ ۵ ، سورۃ النساء، آیت ۲۳)
در مختا رمیں ہے: ’’الاشقاء وغیرھن‘‘ یعنی سگی ہوں یا ان کے علاوہ (حرام ہیں)۔(در مختار، کتاب النکاح، باب فی المحرمات، جلد سوم صفحہ ۳۰، مطبوعہ بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن‘‘۔(فتاوی رضویہ، جلد ۱۱، صفحہ ۳٤٠، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
والله تعالیٰ اعلم
۱۹ ربیع الاول ۱٤٤٦ ھجری
۲۳ ستمبر ۲۰۲٤ عیسوی دوشنبہ
Tags:
محرمات کابیان