مسئلہ:- غیر مسلم اگر کوئی نیک عمل کرتا ہے تو دنیا میں ہی اس کو اس کا اجر دے دیا جاتا ہے مرنے کے بعد قبر میں یا آخرت میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں مگر کیا کوئی ایسا کام ہے جو غیر مسلم نے اگر دنیا میں کیا ہو تو قبر میں اس کا صِلہ اسے ملے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
غیر مسلم کو کوئی بھلائی نہ قبر میں نصیب ہو گی نہ آخرت میں البتہ اگر غیر مسلم حضور ﷺ کی میلاد خوشی میں کچھ خرچ کرے تو اسے ضرور صِلہ ملے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ ابولہب جیسا بد بخت کافر جس نے اپنی پوری زندگی میں حضور ﷺ کو بہت تکلیف دی بہت ایذا پہونچائی مگر مرنے کے بعد اسے وہ صِلہ ملا جو حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا
چنانچہ بخاری شریف جلد دوم کتاب النکاح باب و امهتكم التى ارضعنكم وما يحرم من الرضاعة میں ہے ـــــ فلما مات ابو لهب اريه بعض اهله بشرحيبة قال له ما ذا لقيت قال ابو لهب لم الق بعدكم خيرا انى سقيت فى هذه بعتاقتى ثويبة ــــ* جب ابو لہب مرگیا تو اس کو اس کے گھر والوں نے خواب میں برے حال میں دیکھا پوچھا کیا گذری ــ ابولہب بولا کہ تم سے علٰحدہ ہوکر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوا ــ ہاں مجھے اس کلمے کی انگلی سے پانی ملتا ہے ــ کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا بات یہ تھی کہ ابولہب حضرتِ عبد اللہ کا بھائی تھا ــ اس کی لونڈی ثویبہ نے اس کو خبر دی کہ آج تیرے بھائی عبد اللہ کے گھر فرزند ( محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پیدا ہوئے ــ اس نے خوشی میں اس لونڈی کو انگلی کے اشارے سے کہا کہ جاؤ تو آزاد ہے ــ یہ سخت کافر تھا جس کی برائی قرآن میں آئی ہے ــ مگر اس خوشی کی برکت سے اللہ نے اس پر یہ کرم کیا ــ کہ جب دوزخ میں وہ پیاسا ہوتا ہے تو اپنی اس انگلی کو چوستا ہے تو پیاس بجھ جاتی ہے ــ حالانکہ وہ کافر تھا ــ ہم مومن، وہ دشمن تھا ہم ان کے بندہِ بےدام ــ اس نے بھتیجے کے پیدا ہونے کی خوشی کی تھی نہ کہ رسول اللہ کی ــ ہم رسول اللہ کی ولادت کی خوشی کرتے ہیں ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) تو وہ کریم ہیں ہم بھکاری وہ کیا کچھ نہ دینگے ـــ
*دوستاں را کجا کنی محروم ــ تو کہ با دشمناں نظر داری*
مدارج النبوۃ جلد دوم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رضاعت کی فصل میں اسی ابولہب کے واقعہ کو بیان فرماکر فرماتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یہ ہے اس واقعہ میں مولود والوں کی بڑی دلیل ہے جوکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شبِ ولادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں یعنی ابو لہب جو کہ کافر تھا جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے انعام دیا گیا ــ تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت و خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کرتا ہے ــ لیکن چاہئیے کہ محفلِ میلاد شریف عوام کی بدعتوں یعنی گانے اور حرام باجوں سے خالی ہو ـ
قَالَ عُرْوَةُ وثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ کَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ. (صحیح البخاری، ٩/٧، رقم: ٥١٠١؛ مصنف عبد الرزاق، م: ١٣٩٥٥؛ السنة للمروزی، م: ٢٩٠؛ مستخرج أبی عوانة، م: ٤٤٠٣؛ البعث والنشور للبیهقی، ص: ٦٣؛ السنن الصغیر، م: ٢٤٣٩؛ السنن الکبری للبیهقی، م: ١٣٩٢٣؛ دلائل النبوۃ للبیهقی، ١٨٣/٢؛ شرح السنة للبغوی، م: ٢٢٨٢؛ مسند الشاميين، م: ٣١١٤؛ فوائد الحنائی، م: ٦٥)
عروہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی، جسے ابولہب نے آزاد کردیا، پھر اس نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا تھا، جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تجھ سے کیا معاملہ کیا گیا، جواب دیا جب سے تم سے جدا ہوا ہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں، ثوبیہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے پانی مل جاتا ہے، جس سے میری پیاس بجھ جاتی ہے۔
عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن زينب بنت أبي سلمة، أن أبا لهب، أعتق جارية لها، يقال لها ثويبة وكانت قد أرضعت النبي ﷺ، فرأى أبا لهب بعض أهله في النوم فسأله ما وجد؟ فقال: ما وجدت بعدكم راحة غير أني سقيت في هذه مني وأشار إلى النقرة التي تحت إبهامه في عتقي ثويبة. (مصنف عبد الرزاق، م: ١٦٣٥٠؛ اسنادہ صحيح)
عروہ بن الزبیر رحمة الله علیه روایت کرتے ہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی الله تعالى عنها سے، وہ فرماتی ہیں: ابو لہب نے اپنی باندی کو آزاد کر دیا جس کا نام ثویبہ تھا کس نے نبی کریم ﷺ کو دودھ پلایا. ابو لہب کو گھر کے بعض افراد نے خواب میں دیکھا اس سے پوچھا کیا حال ہے تو اس نے کہا تم سے جدائی کے بعد سے مجھے کبھی راحت نہیں ملی سوائے یہ کہ میں اس سے پانی پی لیتا ہوں. یہ کہہ کر اس سے انگوٹھے کے نچلے حصے کی طرف اشارہ کیا جس سے میں نے ثویبہ کو آزاد کرنے کا اشارہ کیا تھا.
أخبرنا محمد بن عمر، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير: أن ثويبة كان أبو لهب أعتقها فأرضعت رسول الله ﷺ، فلما مات أبو لهب رآه بعض أهله في النوم بشر حيبة، فقال: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم نذق بعدكم رخاء غير أني سقيت في هذه بعتاقي ثويبة وأشار إلى النقيرة التي بين الإبهام والتي تليها من الأصابع. (طبقات الکبری لابن سعد، ١٠٨/١)
عروہ بن الزبیر فرماتے ہیں: ابو لہب نے ثویبہ کو آزاد کر دیا اور اسی وجہ سے ثویبہ نے رسول الله ﷺ کو دودھ پلایا تھا. ابو لہب کے مرنے بعد بعض لوگوں نے اسے خراب حالت میں دیکھا تو پوچھا: تم پر کیا گزری. ابو لہب نے کہا: تمہارے بعد ہمیں کوئی آسائش نہ ملی البتہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے باعث میں اس چیز سے سیراب ہوا اور اس نے انگوٹھے اور انگلیوں کے درمیانی فاصلے کی طرف اشارہ کیا.
امام سہیلی فرماتے ہیں: في رواية غيره، قال: ما لقيت بعدكم راحة، غير أني سقيت في مثل هذه، وأشار إلى النقرة بين السبابة والإبهام، بعتقي ثويبة، وفي غير البخاري أن الذي رآه من أهله هو أخوه العباس، قال: مكثت حولا بعد موت أبي لهب لا أراه في نوم، ثم رأيته في شر حال، فقال: ما لقيت بعدكم راحة إلا أن العذاب يخفف عنى كل يوم اثنين، وذلك أن رسول الله ﷺ ولد يوم الاثنين، وكانت ثويبة قد بشرته بمولده، فقالت له: أشعرت أن آمنة ولدت غلاما لأخيك عبد الله؟ فقال لها: اذهبى، فأنت حرة، فنفعه ذلك. (الروض الأنف للسهيلي، ١٩٠/٥)
دوسری رویات میں ہے: ابو لہب نے کہا : میں نے تمہارے بعد آرام نہیں پایا سوائے اس کے کہ ثویبہ لونڈی کے آزاد کرنے پر مجھے اتنا پانی پلایا جاتا ہے، اور اُس نے سبابہ اور انگوٹھے کے درمیانی فاصلے کی طرف اشارہ کیا۔ صحیح بخاری کے علاوہ دیگر روایات میں ہے کہ اُس کے اہلِ خانہ میں سے جس فرد نے اسے دیکھا وہ اُس کے بھائی حضرت عباس رضی الله عنہ تھے۔ آپ نے فرمایا : میں ابولہب کی موت کے بعد ایک سال تک اُسے خواب میں دیکھتا رہا، پھر میں نے اُسے بہت بری حالت میں دیکھا تو اُس نے کہا : میں نے تمہارے بعد کوئی آرام نہیں پایا سوائے اِس کے کہ ہر پیر کے روز میرے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے. اس کی وجہ یہ ہے رسول الله ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے دن ہوئی اور ثویبہ نے ابولہب کو آپ ﷺ کی ولادت کی خوش خبری سنائی تھی، اور اسے کہا تھا : کیا تجھے پتہ چلا ہے کہ آمنہ کے ہاں تیرے بھائی عبد الله کا بیٹا پیدا ہوا ہے؟ ابو لہب نے اُس سے کہا : جا، تو آزاد ہے۔ اس نے اسے دوزخ کی آگ میں فائدہ پہنچایا.
والله تعالیٰ اعلم
۵ ربیع الاوّل ۱٤٤٦ ھجری
۹ ستمبر ۲۰۲۴ عیسوی پیر
Tags:
متفرقات