مسئلہ:- بدلی وغیرہ نہ چھائی ہو پھر بھی مغرب کی نماز ہمیشہ بلا عذر دس منٹ تاخیر سے پڑھنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئول میں اس قدر تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گُتھ گئے(یعنی خوب ظاہر ہوگئے)، تو مکروہِ تحریمی ہے۔
نور الایضاح صفحہ ۹۲ مطبوعہ لاہور میں ہے:
و تعجيل المغرب إلا في يوم غيم فيؤخر فيه،
مغرب کی نماز، بادلوں والے دن کے علاوہ جلدی پڑھنا مستحب ہے بادل ہوں تو تاخیر کی جائے
اور فتاویٰ رضویہ مترجم جلد پنجم صفحہ ۱٤٠ میں ہے :
مغرب میں تعجیل (یعنی جلدی کرنا) مستحب ہے
اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٤۵۵ میں ہے:
روز ابر کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گُتھ گئے، تو مکروہ ِتحریمی ہے -
والله تعالیٰ اعلم۔
۲۹ محرم الحرام ۱٤٤٦ ھجری
۵ اگست ۲۰۲٤ عیسوی دوشنبہ
Tags:
نماز کا بیان