مسئلہ ؛- عورت نے اتنا باریک دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا جس سے بالوں کی سیاہی چمک رہی تھی نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز نہیں ہوئی۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ " العورۃ للرجل من تحت السرۃ حتی تجاوز رکبتیه فسرته لیست بعورۃ عند علمائنا الثلاثة و رکبته عورۃ عند علمائنا جمیعا ھٰکذا فی المحیط " اھ ( فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۵٤ مطبوعہ مصر ) اور پھر اسی کتاب کے اسی صفحہ پر چند سطروں کے بعد ہے کہ " الثوب الرقیق الذی یصف ماتحته لا تجوز الصلاۃ فیه کذا فی التبیین " اھ ( ایضا ) یعنی اتنا باریک دوپٹہ اوڑھ کر عورتوں کی نماز نہیں ہوگی کہ جس سے بال کا رنگ جھلکے اس لئے کہ عورتوں کو بال کا چھپانا بھی فرض ہے
اور بہار شریعت میں ہے:- اتنا باریک دوپٹہ جس سے بال کی سیاہی چمکے عورت نے اوڑھ کر نماز پڑھی نہ ہوگی جب تک کہ اس پر کوئی ایسی چیز نہ اوڑھے جس سے بال وغیرہ کا رنگ چھپ جائے, ( بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٤۸۵ نماز کی شرطوں کا بیان )
والله تعالیٰ اعلم
یکم محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۸ جولائی ۲۰۲۴ عیسوی پیر
Tags:
نماز کا بیان