پیٹھ پیچھے سے جاندار کی تصویر لینا جائز ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- جاندار کی ایسی تصویر جو پیٹھ پیچھے سے لی جائے یعنی جس میں چہرہ نہ نظر آئے کیا یہ بھی تصویر کے ہی حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
  ایسی تصویر جس میں چہرہ منقطع ہو یا اسے بگاڑ و مسخ کر دیا گیا ہو وہ جائز ہے، کیونکہ تصویر اصل میں چہرے ہی کا نام ہے،
امام طحطاوی رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ شرح معانی الاثار میں سیدنا ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہتے ہیں: الصورۃ الرأس
(سر کی تصویر کے لئے یہ حکم نہیں کیونکہ وہ جائز نہیں،اس لئے کہ تصویر چہرہ ہی کانام ہے)
معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التصاویر فی الثوب) 
درمختار میں ہے:
 وفی الدر اوکانت صغیرۃ لا تتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما و ھی علی الارض ذکرہ الحلبی اومقطوعۃ الرأس اوالوجہ اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ، اھ
درمختار میں ہے، یا زمین پر ہو مگر اتنی چھوٹی ہو کہ اس کے اعضاء کی تفصیل کھڑے ہو کر دیکھنے والے پر واضح نہ ہو۔ابراہیم حلبی نے اس کو ذکر کیا ہے یا سر کٹا ہوا ہو یا چہرہ یا ایسا عضو مٹا ہوا ہو کہ جس کے بغیر زندگی نہ رہ سکے،
(درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا) 
اور محقق جلیل اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
چہرہ بگاڑ دیں! کاٹ دیں! محو کردیں! کہ ان صورتوں میں پوری تصویر بھی رکھنی جائز ہے، (ملخصا)
(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱صفحہ ۲۰۱
مذکورہ بالا توضیحات سے معلوم ہوا کہ پیچھے سے لی گئی تصویر جس میں چہرہ ظاہر و باہر نہ ہو تصویر کے حکم میں نہیں اور اس کا کھینچنا رکھنا سب جائز ہے،
والله تعالیٰ اعلم
۲۹ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۶ جولائی ۲۰۲۴ عیسوی سنیچر
Previous Post Next Post