مسئلہ:- عام طور سے آج کل جو بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں جن کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ایسے نام رکھنے کے متعلق علماء کی کیا رائے ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اس میں علما کو اختلاف ہے
جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ایسا نام رکھنا جس کا ذکر نہ قرآن مجید میں آیا ہو نہ حدیثوں میں ہو نہ مسلمانوں میں ایسا نام مستعمل ہو، میں علما کو اختلاف ہے بہتر یہ ہے کہ نہ رکھے۔
(بہار شریعت حصہ 16 صفحہ 606 نام رکھنے کا بیان)
یاد رہے بچوں کے اچھے نام رکھے جائیں کہ نام کے اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں
اب تو کچھ مسلمان اپنے بچوں کے نام پپو " گُڈو " راجو "وغیرہ اس طرح کے نام رکھتے ہیں رکھتے ہیں ایسے ناموں سے احتراز چاہیے
والله تعالیٰ اعلم
۲۳ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۳۰جون ۲۰۲۴ عیسوی اتوار
Tags:
متفرقات کا بیان