مشروم جِسے کُوکُر متّا بھی کہتے ہیں اس کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟

مسئلہ :- خالد کہتا ہے مشروم 🍄 ( گوبر چھتہ/ کُکُر مُتّا) کھانا جائز ہے اور اور زید کہتا ہے جائز نہیں دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خالد کا قول درست ہے
مشروم جیسے عربی میں ، الکمأة ، اردو و فارسی میں ، مشروم ، اور ہماری یہاں " کُوکُر متّا کہتے ہیں یہ چھتری نما نبات جو برسات میں اگتی ہے اور اس کا کھانا شرعا جائز ہے " لعدم مانع الشرعى " مانع شرعی کے نہ ہونے کی وجہ سے ، اور اصل اشیاء میں اباحت ہے، 
 جیسا کہ قواعد فقیہ میں ہے کہ
 " الاصل فى الأشياء إباحة " اھ
 ( قواعد فقیہ صفحہ ۵۸ )
اور حدیث شریف میں ہے کہ اس کے طبی فائدہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کا عرق آنکھ کے لئے مفید ہے 
قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم الكمأة من المن و ماءها شفاء للعين ، 
 ( مشكوة المصابيح ، کتاب الطب الفصل الثالث )
 مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ مشروم کھانا جائز ہے اس کے کھانے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے 
والله تعالیٰ اعلم
۱۹ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۶ جون ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Previous Post Next Post