سورہ ملانا بھول گیا رکوع میں یاد آیا تو اب کیا کرے؟

مسئلہ:- زید اکیلے عصر کی فرض نماز ادا کر رہا تھا دوسری رکعت کے بعد رکوع میں یاد آیا کہ سورہ ملانا بھول گیا ہے تو اب کیا کرے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 کھڑا ہوجائے پھر سورت ملائے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے ، 
جیسا کہ محقق جلیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں: 
جو سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رکوع میں یاد آیا تو فوراً کھڑے ہو کر سورت پڑھے پھر رکوع دوبارہ کرے پھر نماز تمام کرے اور اگر رکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا تو صرف اخیر میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی اور پھیرنی نہ ہوگی. (فتاوی رضویہ، ١٩٧/٨)
اور اسی میں دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: 
سجدے میں جانے تک فاتحہ وآیات یاد نہ آئیں تو اب سجدہ سہو کافی ہے اور اگر سجدہ کو جانے سے  پہلے رکوع میں خواہ قومہ بعد الرکوع میں یاد آجائیں تو واجب ہے کہ قرأت پوری کرے اور رکوع کا پھر اعادہ کرے اگر قرأت پوری نہ کی تو اب پھر قصداً ترک واجب ہوگا اور نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا اور اگر قرأت بعد الرکوع پوری کرلی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو نماز ہی جاتی رہی کہ فرض ترک ہوا. وذلك لأن الرکوع یرتفض بالعود إلی القرأۃ لأنها فریضة وکل مایقرأ ولو القران العظیم کله فإنما یقع فرضا کما نصوا علیه.  (فتاوی رضویہ، ٣٣٠/٦)
والله تعالیٰ اعلم
۲۴ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۱ جولائی ۲۰۲۴ عیسوی سوموار
Previous Post Next Post