تعویذ پہن کر واش روم میں جانا کیسا ہے؟

مسئلہ:- تعویذ موم جامہ وغیرہ کرکے پہن کر واش روم میں جانا کیسا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
  صورت مسئولہ میں واش روم جانا ،جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ، البتہ! اتار دینا بہتر ہے۔
   درمختار میں ہے:’’رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل ‘‘ترجمہ: کسی جدا غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں، البتہ بچنا افضل ہے۔(در مختار مع رد المحتار، کتاب الطھارۃ،جلد اول ،صفحہ ۱۷۸
مجمع الانہر میں ہے:’’ولو كان ما فيه شيء من القرآن أو من أسماء الله تعالى في جيبه لا بأس به وكذا لو كان ملفوفا في شيء لكن التحرز أولى‘‘ترجمہ:اور اگر جیب میں ایسی چیز ہو جس میں کوئی آیت یا کوئی نام خدا لکھا ہوتو اس کے ساتھ بیت الخلا جانے میں حرج نہیں،اسی طرح اگر وہ کسی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو،تو بھی حرج نہیں، لیکن بچنا بہتر ہے۔(مجمع الانھر،کتاب الطھارۃ،جلد اول 1،صفحہ ۲٦ 
   محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’ تعویذ موم جامہ وغیرہ کرکے غلاف جُداگانہ میں رکھ کر بچّوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اُس میں بعض آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے(واش روم ) میں لے جانا بھی جائز ہے، ہاں افضل احتراز ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ مترجم جلد چہارم صفحہ ٦۰۸  
والله تعالیٰ اعلم
۲۳ محرم الحرام ۱٤٤٦ ھجری
۳۰جولائی ۲۰۲۴عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post