لوہے تانبے کے زیورات پر سونا چاندی کا پانی چڑھا دیا گیا تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- لوہے یا تانبے کے زیوارات پر  اوپر سے سونے یا چاندی کا پَتّر چڑھا دیا جائے  تو اس کا پہننا جائز ہے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
   اگر اس پر سونے چاندی کے پَتّر چڑھا دئیے جائیں  تو پہننا جائز ہے، 
فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم صفحہ ۳۳۵ میں ہے :
ويكره للرجال التختم بما سوى الفضة، كذا في الينابيع.والتختم بالذهب حرام في الصحيح، كذا في الوجيز للكردري.وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا...ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط."
(كتاب الكراهية,الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة)
بہار شریعت میں ہے :
 لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو، اس انگوٹھی کے پہننے کی ممانعت  نہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیوروں   میں   جو بہت لوگ اندر تانبے یا لوہے کی سلاخ رکھتے ہیں   اور اوپر سے سونے کا پتّر چڑھا دیتے ہیں  ، اس کا پہننا جائز ہے۔
 (حصہ ۱٦ صفحہ ٤۳۰ انگوٹھی اور زیور کا بیان) 
والله تعالیٰ اعلم
۲۲ محرم الحرام ۱٤٤٦ ھجری
۲۹ جولائی ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post