مسئلہ؛- کیا جس طرح زکوۃ کے مال پر سال گزر جائے تب زکوۃ نکالنا فرض ہے اسی طرح قربانی کا ہے؟ یعنی مال پر سال گزر جائے تب قربانی واجب ہو گی؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
قربانی کا مسئلہ زکوۃ سے الگ ہے یعنی سال گزرنا ضروری نہیں ۔ یعنی ایام قربانی میں بھی کوئی مالک نصاب ہوگیا تو اس پر قربانی واجب ہے -
قربانی اور زکات کے واجب ہونے کے نصاب میں فرق یہ ہے کہ زکات صرف اس مال پر فرض ہوتی ہے جو عادۃً بڑھتا ہے، جیسے مالِ تجارت، یا مویشی، یا سونا چاندی اور نقدی۔ اس کے علاوہ ذاتی مکان، دکان، برتن، فرنیچر، اور دوسرے گھریلو سامان، ملوں، کارخانوں کی مشینری ، جواہرات خواہ کتنے ہی قیمتی ہوں اگر تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکات فرض نہیں ہے۔
جب کہ قربانی اور صدقہ فطر، اور زکات وصولی کے لیے غیر مستحق ہونے کے نصاب میں ان چیزوں کے ساتھ ضرورت سے زائد سامان کو بھی ملایا جاتا ہے، مثلاً کسی کے پاس دو مکان ہیں، ایک رہائش کے لیے اور ایک ایسے ہی بند پڑا ہوا ہے، اور ضرورت سے زائد ہے تو قربانی وغیرہ کے نصاب میں اس کو بھی شامل کیا جائے گا، اسی طرح ضرورت سے زائد سامان کا بھی یہی حکم ہوگا۔
دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ قربانی واجب ہونے لیے اس نصاب پر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔
در مختار مع شامی میں ہے :
"واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى)، خانية.
(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً،..."الخ
اور فتاویٰ ہندیہ جلد اول صفحہ ۱۹۱ میں ہے :
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".
واللہ تعالیٰ اعلم
۲٦ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۴ جون ۲۰۲۴ عیسوی منگل
Tags:
قربانی کا بیان