اگر کسی کے پاس اتنی کتابیں ہوں کہ بیچ کر حج کرسکے گا تو اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- بے علم کے پاس اتنی کتابیں ہیں کہ بیچے تو حج کر سکے گا تو اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں کتابیں بیچ کر حج کرنا فرض ہے ۔ ہاں اگر اہل علم کے پاس کتابیں ہوں جو اس کے کام میں رہتی ہیں تو بیچ کر حج کرنا ضروری نہیں 
جیساکہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: 
دینی کتابیں اگر اہل علم کے پاس ہیں جو اُسکے کام میں رہتی ہیں تو انھیں بیچ کر حج کرنا ضروری نہیں اور بے علم کے پاس ہوں اور اتنی ہیں کہ بیچے تو حج کرسکے گا تو اُس پر حج فرض ہے۔ یوہیں طب اور ریاضی وغیرہ کی کتابیں اگرچہ کام میں رہتی ہوں اگر اتنی ہوں کہ بیچ کر حج کرسکتا ہے تو حج فرض ہے۔ 
بہار شریعت حصہ ششم صفحہ ۱۰۵۰ حج کا بیان 
والله تعالیٰ اعلم
۲۴ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲ جون ۲۰۲۴ عیسوی اتوار
Previous Post Next Post