مسئلہ:- ایک شخص پوری زندگی میں کتنی شادیاں کرسکتا ہے یعنی عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مرد کے لیے زندگی میں نکاح کی تعداد متعین نہیں ہے البتہ ایک وقت میں چار بیویوں سے زیادہ بیویاں نکاح میں رکھنا ناجائز وحرام ہے۔ چار بھی اس شخص کے لیے ہے جو مکمل طور پر چاروں کو نان و نفقہ اور رہنے سہنے کے لیے مکان دینے کی حیثیت رکھتا ہو
اور چاروں میں عدل کر سکے ونہ صرف ایک پر گزارا کرے
نیز یہ حکم زندگی میں نکاح کی تعداد کا متعین نہ ہونا مرد کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ عورت کے لیے بھی یہی حکم ہے، البتہ وہ ایک شخص کے نکاح یا عدت میں ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔ جب کہ مرد بیک وقت چار رکھ سکتا ہے اگر رکھنے کی حیثیت ہے تو تفصیل اوپر بیان ہوچکا،
تفسير الرازي مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير میں ہے:
المسألة السابعة: قوله: مثنى وثلاث ورباع محله النصب على الحال مما طاب، تقديره: فانكحوا الطيبات لكم معدودات هذا العدد، ثنتين ثنتين، وثلاثًا ثلاثًا، وأربعًا أربعًا."(تفسير الرازي مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (۹/ ٤۸۸)
والله تعالیٰ اعلم
۲۱ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۳۰ مئی ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
نکاح کا بیان