بیوی کا انتقال ہو جائے اور بچّے نہ ہو تو شوہر کو کتنا حصہ ملے گا؟

مسئلہ:- زید کی بہن ہندہ کا انتقال ہوگیا اس کے پاس مہر کے علاوہ پانچ تولہ سونا بھی تھا جیسے زید نے خرید کر دیا تھا اور جہیز کا مال بھی تھا لیکن بچّے نہیں تھے تو کیا زید کا بہنوئی جہیز اور سونے میں دونوں میں حصہ پائے گا؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
   پوچھی گئی صورت میں ہندہ کے ذمے اگر قرض ہےتو اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد ہندہ کاجومال بچے اس پورے میں سے شوہر کا آدھا حصہ ہو گا، چاہے وہ زیور کی صورت میں ہو یا سامان کی صورت میں، سسرال والوں کی طرف سے اسے مالک بنایا گیا ہو یا پھر وہ اپنے والدین کی طرف سے لے کر آئی ہو، شوہر بچے ہوئے سارے مال میں سے نصف حصہ پائے گا اور بقیہ وراثت دیگر ورثاء میں تقسیم ہو گی۔
   شوہر کے حصہ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡن﴾ترجمہ: اورتمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر۔ (پارہ٤ سورۃ النساء، آیت ۱۲)
والله تعالیٰ اعلم 
۱۵ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۲ جون ۲۰۲۴ عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post