مسئلہ؛- کسی کے پاس حج کے زمانہ میں اتنا مال ہے کہ حج کرسکتا ہے مگر اس مال سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو نکاح کرے یا حج؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں حکم شرع یہ ہے کہ حج کرے کہ حج فرض ہے البتہ گناہوں میں مبتلا ہوجانے کا ڈر تھا اور نکاح کر لیا تو کوئی حرج نہیں،
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
اذا وجد مایحج بہ وقد قصد التزوج یحج بہ ولا تزوج لان حج الفریضۃ اوجبھاالله تعالیٰ علی عبدہ کذا فی التبین " اھ
ترجمہ:'' اتنا مال ہے ،جس سے حج کرسکتاہے اور نکاح بھی کرنا چاہتاہے ،تو حج کرے ،نکاح نہ کرے ،اس لیے کہ حج ایسا فریضہ ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر فرض کیاہے ، ''تبیین '' میں اسی طرح ہے
،(فتاویٰ عالمگیری ،جلداول ،صفحہ :۲۱۷)'
بہار شریعت میں ہے:
اتنا مال ہے کہ اس سے حج کرسکتا ہے مگر اُس مال سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو نکاح نہ کرے بلکہ حج کرے کہ حج فرض ہے یعنی جب کہ حج کا زمانہ آگیا ہو اور اگر پہلے نکاح میں خرچ کر ڈالا اور مجردرہنے (شادی نہ کرنے )میں خوفِ معصیت تھا تو حرج نہیں ۔
بہار شریعت حصہ ششم صفحہ ۱۰۴۹ حج کا بیان
والله تعالیٰ اعلم
۶ ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھجری
۱۳ جون ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
حج کا بیان