جس کے نام سے قربانی ہو وہ قربانی سے قبل بال و ناخن کاٹ ڈالے تو قربانی کا کیا حکم ہے؟


مسئلہ:- جس پر قربانی واجب ہے اس نے یکم ذی الحجہ تا دس ذی الحجہ کے درمیان بال ناخن وغیرہ کاٹ ڈالے تو قربانی کا کیا حکم ہے ؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں قربانی ہوجائے گی اور قربانی میں کوئی نقص بھی نہیں کیونکہ ان ایام میں  بال اور ناخن نہ کاٹنے کا جو حکم ہے یہ استحبابی واجب نہیں ، بلکہ اگر (۳۱)دن یا اس سے اوپر ہو گیا ہے تو کاٹنا واجب ہو جا تا ہے کیونکہ چالیس دن سے زیادہ رکھنا گناہ ہے، جیسا کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے (۳۱)دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگر چہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے، فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔
فتاوی رضویہ جلد ۲۰/ ص ۳۵۳ /۳۵۴/ رضا فاؤنڈیشن لاہور) 
والله تعالیٰ اعلم 
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ 
۴ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۱۱ جون ۲۰۲۴ عیسوی منگل
Previous Post Next Post