سجدہ سہو کے لیے جو سلام پھیرتے ہیں وہ سلام پھیرنا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب؟

مسئلہ :- سجدۂ سہو کرنے کے لیے  جو سلام پھیرتے ہیں  پھر سجدۂ سہو کرتے ہیں وہ سلام پھیرنا کیا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 سنت ہے، یعنی سلام کے بغیر سجدہ سہوکے سجدے کر لیے، توبھی  نماز ہو جائے گی، مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے ۔
چنانچہ حضرت علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: ولو سجد قبل السلام جاز و کرہ تنزیھا“ترجمہ : اگر سلام سے پہلے سجدے کر لیے، تو جائز اور مکروہ تنزیہی ہے۔(درمختار ، کتاب الصلاۃ ، باب سجود السھو ، جلد دوم صفحہ ٦۵۳ مطبوعہ کوئٹہ )
   اور علامہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:  اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لیے ،کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔“(بہار شریعت  حصہ چہارم صفحہ ۷۰۸  مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
والله تعالیٰ اعلم
۲۰ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۹ مئی ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Previous Post Next Post