مسئلہ:- جانور کو ذبح کیا وہ اٹھ کر بھاگا پانی میں گر کر مر گیا تو اسے کھانا جائز ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اُس کا گوشت کا کھانا جائز ہے کوئی حرج نہیں ،
جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ جلد پنجم صفحہ ۳۵۹ میں ہے؛
وان ذبح الشاة فاضطربت فوقعت فی ماءٍ أو تردت من موضع لم یضرہا شیء؛ لان فعل الذکاة قد استقر فیہا فانما انزہق حیاتہا بہ ولا معتبر بعد استقرار الذکاة فہذا لحم وقع فی ماءٍ أو سقط من موضع کذا فی المبسوط اھ ،
اور بہار شریعت حصہ پانزدہم صفحہ ۳۲۸ میں ہے :
جانور کو ذبح کیا وہ اٹھ کر بھاگا اور پانی میں گر کر مرگیا یا اونچی جگہ سے گر کر مرگیا اوس کے کھانے میں حرج نہیں کہ اوس کی موت ذبح ہی سے ہوئی پانی میں گرنے یا لڑھکنے کا اعتبار نہیں ۔
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۹ شوال المکرم ۱۴۴۵ ھجری
۹ مئی ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
ذبح کا بیان