مسئلہ:-کسی نے قربانی کا چمڑا فروخت کر کے مسجد بنائی تو اس میں نماز پڑھنا کیسا اس میں نماز ہوگی یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے نماز ہو جائے گی
کیونکہ چرم قربانی یا اس کی رقم مسجد میں دینا نہ صرف بلا کراہت جائز ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے
چنانچہ محقق جلیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں
ہاں جلد براہ راست ( مسجد و مدرسہ دینیہ میں ) صرف کی جاسکتی ہے ، قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وائتجروا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: اجر وثواب حاصل کرو ، اور اگر مسجد ومدرسہ میں دینے کے لئے داموں کو فروخت کی تو دام بھی براہ راست صرف کئے جاسکتے ہیں
فتاوی_رضویہ ، کتاب الاضحیۃ ۲۰/۵۰۲ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)
دوسری جگہ فرماتے ہیں
امام زیلعی سے گزرا : لانہ قربۃ کالتصدق : کہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔اس کار قربت مثل مسجد یا مدرسہ دینیہ یا تعلیم یتیماں میں صرف کرنے کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ خود اس نیت سے لے کر اس کارخیر میں صرف کرنے والوں کو دے دیں ،
(ایضا ، ص۴۹۵)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں
تعمیر مسجد نیز از آن است، پس بالیقین رواست
(ایضا ، ص۴۸۶)
یعنی ، مسجد کی تعمیر بھی نیکی کا کام ہے۔ لہذا اس کا مصرف تعمیر مسجد کے لئے بالیقین جائز ہے
اور ایک جگہ یوں فرماتے ہیں
" قربانی کے چمڑوں کو للہ مسجد (میں) دے دینا کہ انھیں یا ان کی قیمت کو متولی یا منتظمان مسجد مسجد کے کاموں مثلا ڈول ، رسی، چراغ، بتی، فرش، مرمت، تنخواہ مؤذن، تنخواه امام وغیرہا میں صرف کریں، بلاشبہ جائز و باعث اجر و کار ثواب ہے "
ایضا ، ص۴۷۶)
والله تعالیٰ اعلم
۱۸ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۷ مئی ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Tags:
قربانی کا بیان