مسئلہ:- کسی نے چار رکعتی نماز میں قعدہ اخیرہ کئے بغیر پانچویں کا سجدہ کرلیا اور ایک رکعت اور ملالیا یعنی چھ رکعت مکمل کرلیا تو آخر میں سجدہ سہو کرنے کی صورت میں چار فرض دو نفل ہوں گے یا مکمل نفل؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں پڑھی گئی نماز فاسد ہوکر مکمل نفل ہوجائے گی،اور اس نماز کی ادائیگی دوبارہ لازم ہوگی۔جیسا کہ منیۃ المصلی میں ہے: ”رجل صلی الظھر خمسا ولم یقعد علی راس الرابعۃ بطلت فرضیتہ وتحولت صلاتہ نفلا و یضم سادسۃ“ یعنی ایک شخص نے ظہر کی پانچویں رکعت ادا کی، لیکن قعدہ اخیرہ نہ کیا تھا، تو اس کے فرض باطل ہو کر نفل ہو جائیں گے، پھر وہ چھٹی رکعت بھی ملالے
(منیۃالمصلی،صفحہ ١٢٢،مطبوعہ لاھور)
اس عبارت کے تحت غنیۃ المستملی میں ہے: ”وعلی ھذا لو لم یقعد فی ثالثۃ المغرب و سجد للرابعۃ او علی ثانیۃ الفجر ونحوہ وسجد للثالثہ“ یعنی یہی حکم اس وقت بھی ہے کہ جب نمازی مغرب میں قعدہ اخیرہ نہ کرے اور چوتھی کا سجدہ کرلے، یا فجر میں قعدہ اخیرہ نہ کرے اور تیسری کا سجدہ کرلے۔دررالحکام میں ہے: ”وفی الثلاثی الصائر اربعا لا یحتاج الی الضم اذ الرکعات الثلاث بضم الرابعۃ الیھا تحولت الی النفل فحصلت الصلاۃ التامۃ“ یعنی تین رکعت والی نماز میں(قعدہ اخیرہ چھوڑ کر کھڑے ہونے کی صورت میں) جب چوتھی رکعت کا سجدہ کرلیا، تو اب مزید رکعت ملانے کی حاجت نہ رہی،کیونکہ چوتھی رکعت ملانے سے وہ نماز نفل ہوگئی۔یہ نماز مکمل ہے۔(درالحکام شرح غرر الاحکام، جلد اول صفحہ ۱۵۲،مطبوعہ کراچی)
اور اسی طرح حضرت صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”چار رکعت والے فرض میں چوتھی رکعت کے بعد قعدہ نہ کیا، تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو، بیٹھ جائےاور پانچویں کا سجدہ کر لیا، یا فجر میں دوسری پر نہیں بیٹھا اور تیسری کا سجدہ کر لیا،یا مغرب میں تیسری پر نہ بیٹھا اور چوتھی کا سجدہ کر لیا، تو ان سب صورتوں میں فرض باطل ہو گئے۔مغرب کے سوا اور نمازوں میں ایک رکعت اور ملا لے۔“(بہار شریعت، حصہ سوم صفحہ ۵۱۵ ۵۱۶ مکتبۃ المدینہ،)
والله تعالیٰ اعلم
۱۶ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۵ مئی ۲۰۲۴ عیسوی شنبہ
Tags:
نماز کا بیان