مسئلہ:- خالد مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گیا تھا تو خالد کی چپل کوئی لیکر چلا گیا تو خالد دوسرے کی چپل لیکر آ گیا تو کیا خالد کو دوسرے کی چپل استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں خالد کو دوسرے کی چپل استعمال کرنا جائز نہیں
اولاً اگر خالد کو پہنے سے پہلے معلوم ہو کہ یہ چپل غیر کی ہے تو سرے سے پہنا ہی درست نہیں تھا اور انجانے میں پہن لیا ہو پھر معلوم ہوا تو استعمال کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ فقہاء کرام نے جوتے کے مسئلہ میں نص فرمائی ہے کہ اگر ایک کے دوسرے جوتوں میں تبدیل ہوجائیں، جیساکہ کتب عامہ میں مصرح ہے
مسلم شریف میں ہے :"كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه"ترجمہ: مسلمان مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، مال، عزت اور آبرو۔( كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ)
مواد الظمان الی زوائد ابن حبان میں ہے : "وقال رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیه وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیه بغیر طیب نفس منه، قال ذٰلک لشدۃ ماحرم ﷲ من مال المسلم علی المسلم، رواہ ابن حبان" ترجمہ : اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامندی کے بغیر لے لے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں بیان کیا۔(کتاب البیوع، حدیث ۱۱۶۰)
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اسباب اگر اس کی ملک ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں (مخرجہ جلد ۱۹ صفحہ ۶۸۹)۔
والله تعالیٰ اعلم
۱۴ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۳ مئی ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
متفرقات