مسئلہ:- قربانی کا جانور خوبصورت ہو موٹا تازہ ہو خصی کر دیا گیا ہو یہ قربانی کے واجبات سے ہے یا مستحبات سے ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مذکورہ چیزیں قربانی کے مستحبات میں سے ہیں علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت حصہ پانزدہم قربانی کے بیان میں لکھتے ہیں:
مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چت کبرا ہو(یعنی سفید وسیاہ رنگ والا ہو) جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں ہے حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔
حدیث شریف میں ہے
عن أنس بن مالكٍ رضي الله عنه قال: «ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقَرْنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا»
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے قربان کیے۔ (ذبح کرتے ہوئے) آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھی، تکبیر کہی اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۔
( سنن أبي داود ‘‘ ،کتاب الضحایا،باب مایستحب من الضحایا)
والله تعالیٰ اعلم
۱۱ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۲۰ مئی ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Tags:
قربانی کا بیان