کچھ لوگوں کی غلط گواہی کا پتہ تب چلا جب نویں ذی الحجہ کو قربانی کرلی گئی تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دوسویں ہے اسی بنا پر اسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر پتہ چلا گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز و قربانی کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز بھی ہوگئی قربانی بھی ہوگئی ، جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ در مختار کے حوالے سے لکھتے ہیں : 
  نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔
بہار شریعت حصہ ۱۵ صفحہ ۳۴۰ قربانی کا بیان 
والله تعالیٰ اعلم
۴ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۱۳ مئی ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post