ہاروت ماروت فرشتوں کے حوالے سے مشہور غلط واقعہ کی تردید فتاویٰ رضویہ سے

مسئلہ؛- ہاروت اور ماروت جو دو فرشتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے ان دونوں کو نفسانی خواہش دے کر دنیا میں بھیجا تو ان دونوں سے کئی گناہ سرزد ہوئے کہ پہلے شراب پیا پھر بچے کو قتل کیا پھر زنا کیا یہ تمام روایات درست ہیں یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
ہاروت اور ماروت اللہ تبارک وتعالیٰ کے دو فرشتے ہیں اور فرشتے معصوم ہوتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا کسی قسم کا گناہ سرزد نہیں ہوسکتا نیز ان کے بارے میں عوام میں جو غلط قصے مشہور ہیں وہ سب باطل ہیں اور اس بارے میں جو روایات ہیں وہ سب من گھڑت اور یہودیوں کی ایجاد کردہ روایات ہیں _
    محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکارشدید ہے، جس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم(یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی افتراؤں سے ہیں۔) ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔ سیدناخضروسیدناالیاس و سیدنا عیسٰی صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔
   اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ : انما نحن فتنۃ فلاتکفر۲؎۔ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔
اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔بہ قال اکثر المفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف( اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے)فتاوی رضویہ،جلد26،صفحہ397،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 
  اور مفسر قرآن مفتی محمدقاسم عطار ی مدظلہ العالی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں ،فرشتوں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’(لَا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ)‘‘ ترجمۂ کنزالعرفان:وہ (فرشتے)اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔(تحریم: ۶)
اور ارشاد فرمایا:( وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۹)یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠‘‘) ترجمہ کنزالعرفان: اور فرشتے غرور نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتاہے۔(نحل: ۴۹-۵۰)
       امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے تمام گناہوں سے معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ غرور نہیں کرتے ا س بات کی دلیل ہے کہ فرشتے اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے اطاعت گزار ہیں اور وہ کسی بات اور کسی کام میں بھی اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتے۔
تفسیر صراط الجنان،جلد01، سورہ بقرہ،تحت آیت102،مکتبۃ المدینہ،کراچی) 
والله تعالیٰ اعلم
۳ ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھجری
۱۲ مئی ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post