مسئلہ:-معتکف اجرت لے کر بچوں کو مسجد میں دینی دنیاوی تعلیم دے سکتا ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
دنیاوی تعلیم مع اجرت اور بغیر اجرت دونوں طرح سے جائز نہیں البتہ دینی تعلیم کی بغیر اجرت کے اجازت ہے
یعنی معتکف اجرت لے کر نا دنیاوی تعلیم دے سکتا ہے نہ دینی تعلیم ، کیونکہ یہ کار دنیا ہے اور مسجد میں دنیا کی باتیں حرام ہیں
البتہ دنیاوی تعلیم بغیر اجرت کے بھی نہیں دے سکتا ہے کیونکہ یہ مکمل کار دنیا ہی ہے،
اور دنیا کی بات کے لئے مسجد میں جانا حرام ہے( ایساہی فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۳٦۱ پر ہے) اور علامہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں معتکف نہ چپ رہے نہ بات کرے بلکہ قرآن شریف کی تلاوت حدیث کی قرأت اور درود شریف کی کثرت کرے اور علم دین کا درس و تدریس کرے انبیاء و اولیاء و صالحین کے حالات پڑھے یا دینی باتیں لکھے "(بہار شریعت حصہ پنجم اعتکاف کا بیان )
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۸ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
۸ اپریل ۳۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Tags:
اعتکاف کا بیان