نابالغ شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس کے ذمہ پر ہے؟

مسئلہ؛- نابالغ شادی شدہ غیر مالک نصاب لڑکی جس کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے اس کا فطرہ کس کے ذمہ ہے شوہر پر یا باپ پر؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں باپ پر صدقۂ فطر واجب ہے  جیسا کہ بہار شریعت میں ہے 
نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں  اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں ، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں  یا شوہر کے یہاں  اُسے بھیجا نہیں  تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقۂ فطر اس کے مال سے ادا  کیا جائے۔ 
بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۹۴۲ صدقۂ فطر کا بیان)
۲٦ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
٦ اپریل ۲۰۲۴ عیسوی سنیچر
Previous Post Next Post