سال بھر تک خیرات کرتا رہا، اب نیّت کی کہ جو کچھ دیا ہے زکاۃ ہے تو زکوۃ اداہوئی یا نہیں؟

مسئلہ:- زکاۃ کا مال الگ کرتے وقت یا زکوۃ دیتے وقت نیت کرنا کیا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نیت کرنا شرط ہے، 
جیسا کہ بہار شریعت میں عالمگیری سے ہے: 
  زکاۃ دیتے وقت یا زکاۃ کے لیے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکاۃ شرط ہے۔ نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکاۃ ہے۔ 
بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۸۹۲ زکاۃ کا بیان
اور اسی میں ہے : 
  سال بھر تک خیرات کرتا رہا، اب نیّت کی کہ جو کچھ دیا ہے زکاۃ ہے تو ادا نہ ہوئی۔
(ایضاً) 
فتاوی شامی میں ہے:"(قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة."(کتاب الزکاة/باب المصرف)
 اسی میں ہے:"وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة."(ایضاً)
والله تعالیٰ اعلم
Previous Post Next Post