معتکف کی والدہ کا انتقال ہوجائے تو جنازہ میں شامل ہونے کی کیا صورت ہے؟

مسئلہ؛- معتکف یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والے شخص کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو کیا  والدہ کی تجہیز وتکفین میں شامل ہونے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر چہ والدہ کی تجہیز وتکفین میں گیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا 
اور وہ شخص اس کی قضا کرے گا 
فتاوی عالمگیری میں ہے  " و لو خرج لجنازة يفسد اعتكافه و كذا صلاتها ولو تعينت عليه او لانجاء الغريق او الحريق او الجهاد اذا كان النفير عاما او لاداء الشهادة هكذا فى التبيين " اھ ( جلد اول صفحہ ۲۳۴  ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ) اور حضرت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " اگر ڈوبنے یا جلنے والے کے بچانے کے لئے مسجد سے باہر گیا یا گواہی دینے کے لئے گیا یا جہاد میں سب لوگوں کا بلاوا اور ہوا یہ بھی نکلا یا مریض کی عیادت یا جنازہ کے لئے گیا اگرچہ کوئی دوسرا پڑھنے والا نہ ہو تو ان سب صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوگیا " اھ ( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ  ۱۰۲۵ ، ) 
ہاں فقہائے کرام نے اس کی ایک صورت رکھی اگر ایسی مجبوری ہو تو اعتکاف توڑ دے اس دن کی قضا کرے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے کہ " لو شرع فى المسنون اعنى العشر الأواخر بنية ثم افسده قضى اليوم الذى افسده لاستقلال كل يوم بنفسه " اھ ( جلد  سوم صفحہ  ۵۰۰  / ۵۰۱ ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لئے بیٹھا تھا اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں " اھ ( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ  ۱۰۲۸) اور مفتی وقار الدین رضوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں " معتکف اگر بھول کر مسجد سے نکل گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائیگا ، اب صرف اس دن کے اعتکاف  قضاء کرنا ہوگی " ( وقار الفتاوى جلد اول صفحہ ۴۳۴ )
والله تعالیٰ اعلم
۲۴ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
۴اپریل ۲۰۲۴ عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post