بغیر عذر قعدہ میں دونوں پاؤں کھڑ کرکے اس پر سرین رکھ کر بیٹھا رہا تو نماز کا حکم ہے؟

مسئلہ:- اگر کسی نے بغیر عذر کے قعدہ اولی یا اخیرہ میں دونوں پاؤں کھڑا کرکے قعدہ میں بیٹھا رہا تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز مکروہ تنزیہی ہوئی کیونکہ بحالت قعدہ سنت یہ ہے کہ داہنا پیر کھڑا کرے اور بایاں بچھاۓ، 
البتہ کوٸی شرعی عذر ہے تو جیسے ممکن ہو ادا کرے کوٸی حرج نہیں - 
بحرالرائق میں ہے : 
" و افتراش رجلہ الیسریٰ و نصب الیمنیٰ (ای فی حالة القعدة) اھ 
البحرالراٸق شرح کنزالدقاٸق ، جلداول صفحہ ۵۲۹) 
 اور بہار شریعت میں ہے : 
دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا اور داہنا قدم کھڑا رکھنا (سنت ہے)
بہارشریعت حصہ سوم صفحہ ۵۳۲) 
والله تعالیٰ اعلم
۲۰ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۲ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی سنیچر
Previous Post Next Post