قصص الانبیاء نامی کتاب معتبر ہے یا نہیں اور اس کا پڑھنا کیسا ہے؟

مسئلہ:- فقط " قصص الانبیاء " نامی کتاب جو عام طور سے ملتی ہے وہ کتاب معتبر ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم 
الجواب بعون الملک الوھاب
قصص الانبیا نامی کٸی کتابیں موجود ہیں جس میں اکثر منگھڑت واقعات ہیں 
جو کہ غیر معتبر ہے اور اس کا پڑھنا، سننا، بیان کرنا، حوالہ دینا، درست نہیں 
جیسا کہ شارح بخاری فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:  
" قصص الانبیاء نامی کتاب غیر معتبر ہے - اس میں بہت سی موضوع ، واہیات ، خرافات روایتیں بھری پڑی ہیں -" 
البتہ وہ واقعات جو سند قرآن کریم و احادیث مبارکہ نیز بزرگانِ دین کے اقوال سے متصل و مشتمل ہو ان واقعات کو بیان کرنا بلاشبہ جائز ہے ، 
(فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ ۴۰۶) 
اور فی زمانہ مفسر اعظم پاکستان شیخ الحدیث و التفسیر فیض ملت مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمة اللہ علیہ کی کتاب بنام" قصص الانبیاء سنی " یہ کتاب معتبر ومستند و قابل بیان ہے لہذا اسے پڑھا جائے
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی
۲۴ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۶ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Previous Post Next Post