جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے اس کا صدقۂ فطر واجب ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- زید کہتا ہے جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے اس کا بھی صدقہ فطر واجب ہے بکر کہتا ہے اس کا صدقہ فطر واجب نہیں دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے کیونکہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو اس کا فطرہ واجب نہیں۔ 
 یعنی عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطرواجب ہوتاہے ،اس وقت اگربچہ پیٹ میں ہوتواس کاصدقہ فطرلازم نہیں ہوتااوراگراس وقت سے پہلے پیداہوچکاہوتواس کاصدقہ فطرواجب ہوتاہے۔
بدائع الصنائع میں ہے " ولا يخرج عن الحمل لانعدام كمال الولاية"ترجمہ:اورحمل کی طرف سے صدقہ فطرنہیں نکالے گاکمال ولایت نہ ہونے کی وجہ سے ۔(بدائع الصنائع،بیان من تجب علیہ صدقۃ الفطر،جلد دوم ،ص۷۲) 
   بحرالرائق میں ہے " لا يخرج عن عبده الآبق۔۔۔۔ ولا عن الحمل"ترجمہ:اپنے بھاگے ہوئے غلام کاصدقہ فطرنہیں نکالےگااورنہ حمل کاصدقہ فطرنکالے گا۔(بحرالرائق،باب صدقۃ الفطر،جلد دوم ،صفحہ۔ ۲۷۲
   بہارشریعت میں ہے " عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔"(بہارشریعت ،جلد اول ،حصہ پنجم صفحہ ۹۳۵
والله تعالیٰ اعلم
۷ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
۱۸ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی سوموار
Previous Post Next Post