بیس رمضان کو مغرب سے پہلے مسجد میں اعتکاف کی نیت سے نہیں گیا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- اگر کوئی شخص کسی عذر شرعی کی بنا پر بیس رمضان کو بعد نماز مغرب اعتکاف کی نیت سے مسجد میں گیا تو سنت مؤکدہ والا اعتکاف مانا جائے گا ؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگرچہ شرعی عذر تھا نہیں مانا جائے گا اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی، 
جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ فرماتے ہیں: 
رمضان کے پورے عشرۂ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں  اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں  رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ۔
(بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۱۰۲۷)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ 
۸ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
۱۹ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی منگل
Previous Post Next Post