مسئلہ:- زید کہتا ہے اعتکاف کی دو قسمیں ہیں اور خالد کہتا ہے اعتکاف کی کتنی قسمیں ہیں دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے
حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی حنفی متوفی ۱۴۲۲ ھ لکھتے ہیں :
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں
اول _ واجب کہ اعتکاف کی منت مانی مثلاً یوں کہا کہ میرا بچہ تندرست ہوگیا تو میں تین دن اعتکاف کروں گا تو بچہ کے تندرست ہونے پر تین دن کا اعتکاف واجب ہوگا ۔
دوم __ سنّت مؤکد کہ بیس رمضان کو سورج ڈوبتے وقت اعتکاف کی نیت سے مسجد میں ہو اور تیسویں رمضان کو غروب آفتاب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے یعنی اگر سب لوگ ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ ہوگئے
(فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ۱۹۷)
(بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۱٤٧ / ان دونوں اعتکافوں کے لیے روزہ شرط ہے ردالمحتار جلد دوم صفحہ ۱۳۰)
اور اعتکاف کی تیسری قسم مستحب ہے جس کے لئے نہ روزہ شرط ہے اور نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے اس کی آسان صورت یہ ہے کہ جب بھی مسجد میں داخل ہونا چاہے تو دروازے پر دخول مسجد کی نیت کے ساتھ اعتکاف کی بھی نیت کرلے جب تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب ملے گا -
فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ۵۳۵)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱۶ رمضان المبارک ۱۴۴۵ ھجری
۲۷ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Tags:
اعتکاف کا بیان