حضور ﷺ التحیات میں السلام علیک ایھاالنبی پڑھتے تھے یا کچھ اور پڑھتے تھے؟

مسئلہ:- زید کہتا ہے حضور ﷺ التحیات میں السلام علیک ایھا النبی پڑھتے تھے 
بکر کہتا ہے السلام علیک علیَّ پڑھتے تھے دونوں میں کس کا قول درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 حضور ﷺ التحیات میں کبھی "السلام علیک ایھا النبی "اور کبھی السلام عَلَیَّ ، پڑھتے تھے ۔
چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم ہمارے لیے علم حضوری کیونکہ رسالت آپ کا اپنا وصف ہے ، نیز حضور کا کلمہ یہ بھی تھا۔اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ ﷲِ ۔ اوریہ بھی کہ ۔ اَشْھَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ ﷲِ ۔میں ﷲ کا رسول ہوں،کبھی اس طرح کلمہ پڑھتے تھے ، کبھی اس طرح۔اگر ہم کہہ دیں کہ میں رسول ﷲ ہوں تو کافر ہو جائیں۔ یعنی ایک کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کلمۂ ایمان ہے اور ہمارے لیے کفر ، التحیات میں ہم پڑھتے ہیں"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَا النَّبِیُّ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسے ہی پڑھتے تھے،اور کبھی ،السلام عَلَیَّ، 
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول صفحہ ۳۹۵/۳۹۶
والله تعالیٰ اعلم
۲۲ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۴ مارچ ۲۰۲۴ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post