حائضہ عورت نے بغیر کلی کئے یا سلام یا حنان کا وظیفہ کیا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- ہندہ _ یا سلامُ_ یا حنّانُ _ کا وظیفہ پڑھ رہی تھی چالیس دن تک پڑھنا ہے درمیان میں حیض آگیا اور ایک دن بغیر کلی کئے ہی پڑھ لیا تو کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جنابت یا حیض کی حالت میں مذکورہ وظیفہ پڑھنا جائز ہے البتہ اس میں بہتر یہ ہے کہ وضو یا کلی کر کے وظائف کرے اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حرج نہیں ، 
   چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے : وَيَجُوزُ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ الدَّعَوَاتُ وَجَوَابُ الْأَذَانِ وَنَحْوُ ذَلِكَ ” ترجمہ : جُنبی اور حائضہ عورت کے لئے مختلف دعائیں اذان کا جواب وغیرہ جائز ہے۔(الفتاوى الهندية ، کتاب الطھارۃ ، جلداول صفحہ ٤۳ دارالکتب العلمیۃ )
  اور، بہارشریعت میں حیض ونفاس کے متعلق احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کر کے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حَرَج نہیں۔(بہارشریعت ، جلد اول حصہ دوم صفحہ ۳۷۹ مکتبۃ المدینہ)
والله تعالیٰ اعلم
۱۸ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۲۹ فروری ۲۰۲۴عیسوی جمعرات
Previous Post Next Post