مسئلہ:- بکرا یا بکری کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے یا خفیفہ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکرا بکری وغیرہ حلال جانوروں کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے۔
چنانچہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ٤٦ میں ہے :
وبول ما یؤکل لحمہ والفرس وخرء طیر لا یؤکل مخفف اھ
یعنی، جن جانوروں کا گوشت حلال ہے(جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا) ان کا پیشاب اور گھوڑے کا پیشاب اور جس پرندے کا گوشت حرام ہے(جیسے کوا، چیل، شِکرا، باز، بہری) اس کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔
اور اس کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کے حصہ یا بدن کے جس عضو میں لگ جائے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے(مثلًا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم، آستین میں اس کی چوتھائی سے کم۔ یوہیں ہاتھ میں ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے) تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی اور اگر چوتھائی کی مقدار ہے تو بے دھوئے نماز نہ ہوگی
( بہار شریعت حصہ دوم نجاستوں کے متعلق احکام)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۷ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۸ فروری ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
نجاست کا بیان