استنجا کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- خالد کہتا ہے استنجا کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرسکتے ہیں بکر کہتا ہے نہیں کرسکتے دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خالد کا قول درست ہے یعنی 
 استنجا کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جائز ہے، حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ سے استنجا کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا 
"جائز ہے اور اس میں حرمت وضو کا کچھ خلاف نہیں کہ یہ پانی استعمال میں نہ آیا کما لایخفی"
(فتاوی رضویہ مترجم جلد ٢ صفحہ ٣٨،باب المیاہ ) 
اور حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں 
"طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اسراف میں داخل ہے"
(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ٤١٦، استنجا کا بیان) 
والله تعالیٰ اعلم 
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۵ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۶ فروری ۲۰۲۴ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post