مسئلہ:- خطبۂ جمعہ میں نماز کی طرح یعنی دو زانو بیٹھنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خطبہ میں دوزانو بیٹھنا، جس طرح نماز میں بیٹھتے ہیں ، یہ سنتِ مستحبہ ہے ۔
· اور اس طرح بیٹھنا کہ پہلے خطبے میں ہاتھ باندھیں اور دوسرے خطبے میں ہاتھ زانوؤں پر رکھیں ، اس سے ان شاء اللہ عزجل دو رکعت کا ثواب ملے گا ۔
چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث پاک میں ہے :" عن سھل بن معاذ عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھیٰ عن الحبوۃ یوم الجمعۃ والامام یخطب " حضرت سہل بن معاذ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن اکڑوں بیٹھنے سے منع فرمایا جب امام خطبہ دے رہا ہو ۔(جامع الترمذی ، صفحہ ۲۲۹ ، مکتبہ رحمانیہ )
اس کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :" کیونکہ اس بیٹھک میں نیند بھی آتی ہے اور ریح نکلنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔بزرگانِ دین تو فرماتے ہیں کہ دوزانو بیٹھ کر خطبہ سنے پہلے خطبہ میں ہاتھ باندھے اور دوسرے میں زانوؤں پر ہاتھ رکھے تو ان شاءاﷲ دورکعت کا ثواب ملے گا کیونکہ خطبہ فرض ظہر کی دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔(مرآۃ المناجیح جلد دوم 2،صفحہ ۳۲۳ ، مکتبہ اسلامیہ )
دوزانو بیٹھ کر خطبہ سننا سنت ہے ، چنانچہ بہار شریعت میں خطبے کی سنتوں کے بیان میں ہے : خطبہ سننے کی حالت میں دو زانو بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔ (بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ ۷۶۸ مکتبۃ المدینہ )
اور معراج الدرایہ میں ہے” ويستحب أن يقعد فيها كما يقعد في الصلاة لقیامھا مقام رکعتین“ ترجمہ : جس طرح نماز میں بیٹھتے ہیں ،ویسے ہی خطبے کے دوران بیٹھنا مستحب ہے کیونکہ خطبہ دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔ (معراج الدرایہ فی شرح الھدایۃ،جلد دوم صفحہ ۳۳۶ دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
لہذا معلوم ہوا کہ اس طرح بیٹھنا سنت ہے اور مستحب بھی تو اسے سنت مستحبہ کہیں گے،
والله تعالیٰ اعلم
۱۷ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۲۸ فروری ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Tags:
جمعہ کا بیان