ہلتے ہوئے دانت تار سے باندھ دیا گیا پورے منھ میں پانی نہیں پہونچ رہا تو وضو وغسل کا کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- ہلتے ہوئے دانتوں کو تار سے باندھ دیا گیا اور تار کو کھولا نہیں جاسکتا جس وجہ سے پورے منھ میں مکمل پانی نہیں پہونچ پا رہا ہے تو ایسی صورت میں وضو وغسل کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسٶلہ میں اگر واقعی تار کو جدا نہیں کیا جا سکتا، یا جدا تو کیا جا سکتا ہو مگر باعثِ ضرر ہو تو وضوء و غسل پر اصلاً فرق نہیں پڑتا 
اور اگر جدا کرنا بآسانی ممکن ہو اور پانی بھی اسکے جدا کیۓ بغیر پہونچ نہ پاتا ہو تو اس صورت میں تار کوجدا کرنا ضروری ھے اگر بغیر جدا کیۓ غسل کیا گیا تو غسل نہیں ہو سکتا کیونکہ غسل میں کلی فرض ھے اور کلی کرنے میں داڑھون کے پیچھے ، دانتوں کی جڑ کھڑکیوں میں پانی کا بہ جانا فرض ہے 
اور اگر وضوء میں ایسا ہوا تو وضوء تو صحیح ہو جاۓ گا لیکن خلاف سنت ہوگا کیونکہ وضوء میں کلی کرنا سنت ہے

محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
“ہلتا ہوا دانت اگر تار سے جڑا ھے معافی ہونی چاہیۓ اگر چہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ باربار کھولنا ضرر دیگا نہ اس سے ہر وقت بندش ہو سگے گی
--- ہاں اگر کمانی چڑھی ہو جسکے اتارنے چڑھانے میں حرج نہیں اور پانی کو روگے گی تو اتارنا لازم ہے “ 
( فتاوی رضویہ قدیم جلد اول صفحہ ۹۹ باب الغسل )
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱۱ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۲۲ فروری ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Previous Post Next Post