مسئلہ:- قرآن شریف اگر بوسیدہ ہوجائے پڑھنے کے قابل نہ رہ جائے یعنی اس کے اوراق بکھر جانے کا اندیشہ ہو تو جلانے کی اجازت ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں قرآن مجید کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے جلایا نہ جائے -
محقق جلیل حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریرفرماتے ہیں کہ، قرآن شریف بوسیدہ ہو جاۓ تو بھی اسے جلا نا جائز نہیں ہے بلکہ حفاظت کی جگہ مثل مسلم احترام سے دفن کیا جاۓ جہاں پاؤں نہ پڑے
فتاوی رضو یہ متر جم جلد 23 صفحہ374)
اور حضور صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمــی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
قرآن مجید پرانا بوسیدہ ہوگیا اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اوراق منتشر ہو کر ضائع ہوں گے تو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کر دیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لئے لحد بنائی جائے تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بناکر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے مصحف شریف بوسیدہ ہو جائے تو اس کو چلایا نہ جائے
(بہار شریعت حصہ 16 بحوالہ عالمگیری)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۹ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۹ فروری ۲۰۲۴ عیسوی سنیچر
Tags:
متفرقات