نماز میں انگلیاں چٹخانا کیسا ہے؟

حالتِ نمازمیں انگلیاں چٹکانا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نماز کی حالت میں انگلیاں  چٹکانا مکروہ ہے " 
حدیث شریف میں ہے: 
عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُفَقِّعْ أَصَابِعَكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ».
حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب تم حالت نماز میں ہو تو انگلیاں نہ چٹکاؤ،۔ 
[سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة، باب ما يكره في الصلاة، ج ١، ص ٧٣٢، الحدیث ٩٦٥،) 
فتاویٰ ھندیہ میں ہے:
وَيُكْرَهُ أَنْ يُشَبِّكَ أَصَابِعَهُ وَأَنْ يُفَرْقِعَ. كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ، والفرقة أن يغمزها أو يمدها حتى تصوت كذا في النهاية، وَالْفَرْقَعَةُ خَارِجَ الصَّلَاةِ كَرِهَهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ. كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ اه‍......
ترجمہ: اور نماز کے اندر مکروہ ہے یہ کہ اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالے اور یہ کہ چٹکائے ایساہی ”فتاویٰ قاضی خاں” میں ہے، اور فرقۃ یہ ہے کہ انگلیاں اس قدر کھینچے کہ آواز آئے ایساہی ”نہایہ”میں ہے، اور نماز سے باہر انگلیاں چٹکانا اکثر لوگوں مکروہ جانا ہے ایساہی ”زاھدی”میں ہے،( تنزیہی) بتاتے ہیں یہ زاہدی میں ہے.
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فيها، الفصل الثاني، جلد اول ، صفحہ ۱۰٦۔
اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:
’’انگلیاں چٹکانا مکروہ تحریمی ہے۔ نماز کے لیے جاتے وقت اور نماز کے انتظار میں بھی یہ دونوں چیزیں مکروہ ہیں اور اگر نہ نماز میں ہے نہ توابع نماز میں تو کراہت نہیں جب کہ کسی حاجت کے لیے ہو۔
(بہارشریعت ،جلد اول حصہ سوم ، صفحہ ٦٢۵، ، مکروہات کا بیان
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی
۲۶ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۷ فروری ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Previous Post Next Post