کیا سود کا اتنا بڑا گناہ ہے کہ جیسے انسان اپنی ماں سے زنا کرے؟

مسئلہ؛- کیا یہ روایت درست ہے کہ سود کا گناہ اتنا زیادہ ہے جیسے انسان اپنی ماں سے زنا کرے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
یہ روایت بالکل درست ہے اور حدیث شریف سے ثابت ہے 

چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
 الربا سَبْعُونَ حُوبًا أيسرها أن ينكح الرجل امہ ، 
(سنن ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، بَاب التَّعْلِيظ في الربا ، رقم الحدیث: ۲۲۷۴) 
ترجمہ: سود میں ستر گناہ ہیں ، سب سے ہلکے درجے کا گناہ ایسا ہے جیساکہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے 
اور دوسری حدیث پاک میں ہے کہ
 أَنَّ رَسُولَ اللهِ لَعَنَ آكل الربا وموكله وَشَاهِدِيه وكاتبه 
المربع سابق رقم الحدیث: ۲۲۷۷)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے ، اسکی گواہی دینے والے اور اس کا معاملہ لکھنے والے سب پر لعنت فرمائی ،
والله ور سولہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۳۰ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۱۱ فروری ۲۰۲۴ عیسوی اتوار
Previous Post Next Post