مسئلہ:- زید کے پاس ڈھائی لاکھ روپئے تھے اور اس پر آٹھ ماہ مدت گزر گئے پھر اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ آگیا تو زکوۃ ڈھائی لاکھ کی نکالے یا ساڑھے تین لاکھ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید ساڑھے تین لاکھ روپے زکوۃ نکالے گا
حضرت علامہ شیخ نظام الدین اور علماء ہند کی ایک جماعت نے تحریر فرمایا ہے:
ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة.
(فتاویٰ عالمگیری، جلد اول صفحہ ١٧۵ مطبوعہ بولاق )
ترجمہ: اور وہ شخص جس کے پاس نصاب مکمل ہو اور درمیان سال میں اس کی جنس سے فائدہ اٹھاکر مال حاصل کیا تو اس کو اسی مال کے ساتھ ملائے اور زکوٰۃ ادا کرے چاہے وہ مستفاد اسی پہلے کی قسم سے اور کسی بھی طریقہ چاہے میراث میں ملا یا کسی نے ہبہ کیا یا اس کے علاوہ، سے حاصل ہوا ہو اس کے ساتھ ملائے، اور اگر کسی طریقہ سے اس پہلے کی جنس سے نہ ہو جیسے بکری اونٹ کے ساتھ تو اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا ایساہی "الجوہرۃ النیرۃ" میں ہے۔
اور حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
جو شخص مالک نصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اُس نئے مال کا جدا سال نہیں، بلکہ پہلے مال کا ختم سال اُس کے لیے بھی سال تمام ہے، اگرچہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو۔
(بہار شریعت، ، جلد اول حصہ پنجم صفحہ ٨٨٤، زکوٰۃ کا بیان
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۱۳ فروری ۲۰۲۴ عیسوی منگل
Tags:
زکوۃ کا بیان