مسئلہ:- اگر کسی نے نماز میں الحمد شریف کے بعد صرف ( اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ،فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ) پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز ہوگئی کیونکہ اتنی مقدار پڑھنے سے واجب کی ادائیگی ہوگئی
مذکورہ آیت میں ستائیس حروف ہیں جب کہ پڑھے تیس گۓ ہیں ،وہ اس لۓ کہ تین جگہوں پر حروف مشدد ہیں ، بس اسی وجہ سے یہ تیس حروف ہو گئے ، جب کہ اگر کسی شخص نے کسی ایسی آیت کو پڑھا جس میں پچیس حروف پڑھے یا لکھے گئے ہوں تب بھی بحکم فقہاء نماز ہو جاۓ گی ،
محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
أقول: بلی ! فقوله تعالى: ﴿قُمْ فَأَنْذِرُ ، وَرَبَّكَ فَكَبٌِرُ ، وَثِيَابَكَ فَطَهٌِرْ [المدثر: ٢-٤] ، ثمانية و عشرون حرفا مقروءاً وخمسة وعشرون مكتوباً، وقوله تعالى: وَ الْفَجْرِ ، وَلَيَالٍ عَشْرٍ : والشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ﴾ [الفجر: ١-٣]، خمسة وعشرون حرفاً والمكتوب ستة وعشرون ، فإذن ينبغي إدارة الحكم على خمسة و عشرين حرفاً سواء أريدت المقروءات كما هو الأليق أو المكتوبات.
میں کہتا ہوں ،کیوں نہیں ، اللہ عزوجل فرماتا ہے ،(قُمْ فَأَنْذِرُ ، وَرَبَّكَ فَكَبٌِرُ ، وَثِيَابَكَ فَطَهٌِرْ) اس میں اٹھائیس حروف پڑھے گۓ ہیں ،اور (جب کے) پچیس لکھے ہوئے ہیں،
اور اللہ عزوجل فرماتا ہے (وَ الْفَجْرِ ، وَلَيَالٍ عَشْرٍ : والشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ) اس میں پچیس حروف پڑھے گئے ہیں ،اور (جب کے) لکھے ہوئے چھبیس حروف ہیں تو اسی کے تحت تب تو مناسب ہے کہ حکم دائر ہو پچیس حروف پر ، چاہیں کہ پڑھے ہوئے مراد لۓ گۓ ہوں جیسا کہ یہی زیادہ مناسب اور لائق ہے یا لکھے ہوئے لۓ گۓ ہوں ،
( جد الممتار جلد سوم صفحہ ۱۵۳)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۳ شعبان المعظم ۱۴۴۵ ھجری
۱۴ فروری ۲۰۲۴ عیسوی بدھ
Tags:
نماز کا بیان