مسئلہ::- اعلیٰ حضرت محدث بریلوی نے عورتوں کو ملازمت اختیار کرنے کی پانچ شرطیں بتائی ہے اور فرمایا ہے کے اگر یہ پانچ شرطیں جمع ہے تو حرج نہیں اور ایک بھی کم ہے تو حرام (جلد ۲۲ صفحہ ۲٤۸)
تو سوال یہ ہے کے اگر ان میں سے ایک بھی شرط کم ہے تو ملازمت حرام ہے پر اگر پھر بھی کوئی عورت جائز ملازمت کرے تو اس سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا حکم ہے اس سے کھانے وغیرہ کا کیا حکم ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نوکری حرام رقم حلال
یعنی عورت کیلئے ایسا کرنا ناجائز و حرام ہے مگر کمائی حلال و طیب ہوگی بشرطیکہ اس ملازمت میں کوئی حرام بعینہ کام نہ کرنا پڑے
چنانچہ امام محمد بن محمد بن شہاب کردی الشہیر بالبزازی حنفی متوفی ۸۲۷ھ فرماتے ہیں
" غصب حانوتاً واتجر فيه وربح يطيب الربح لأنه حصل بالتجارة "*
الجامع_الوجیز المعروف بالفتاوی_البزازیہ ، کتاب الغصب ، جنس آخر في غصب الضياع والعقار ، ۲/۲۹۸ ،
یعنی ، کسی نے دکان غصب کی اور اس میں تجارت کی اور منافع کمایا تو یہ منافع اس کیلئے حلال و طیب ہے کیوں کہ اس اسے تجارت کے ذریعہ حاصل کیا ہے،
فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم صفحہ ۴۲۱ میں ہے :
" قال محمد رحمه الله تعالى : وبه نأخذ ما لم نعرف شيئاً حراما بعينه وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأصحابه كذا في الظهيرية "
یعنی ، امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارا یہی مذہب ہے جب تک کہ کسی چیز کا حرام لعینہ ہونا معلوم نہ ہو اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا ہے جیساکہ فتاوی ظہیریہ میں ہے
اور فتاویٰ رضویہ جلد ۲۳ صفحہ ۵۰۸ میں ہے :
اصل مزدوری اگر کسی فعل ناجائز پر ہو سب کے یہاں ناجائز ، اور جائز پر ہو تو سب کے یہاں جائز "
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۵ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۱۷ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بدھ
Tags:
متفرقات