مسئلہ:- مالک نصاب کی رقم قرض میں مستغرق ہومگراتنی رقم اس کے پاس موجود ہو جس سے قربانی دے سکتے ہیں تو قربانی واجب ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
پوچھی گئی صورت میں اگرچہ رقم قرض میں مستغرق ہے قربانی واجب ہے
یعنی جب اس شخص کےپاس اتنی رقم موجود ہے جس سے وہ قربانی دے سکتاہے تو اس پر قربانی واجب ہے
امام ابن بزاز کردری حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
" لہ مال کثیر غائب فی ید مضاربۃ او شریکہ و معہ من الحجرین او متاع البیت مایشتری بہ الاضحیۃ تلزم "
فتاوی بزازیہ علی ھامش فتاوی ھندیہ جلد ششم صفحہ ۲۸۷ بولاق مصر)
کہ اس کےپاس مال کثیرتوہےمگر غائب ہےکہ مضاربت میں لگاہواہےیا اس کےشریک کےقبضےمیں ہے لیکن اس کےپاس سونا چاندی یاگھرکاسامان ہےجس سے قربانی کاجانورخریدسکتاہےتو قربانی لازم ہے
بلکہ اگر اس کے پاس قربانی کیلئے بالکل رقم نہ ہوتی تو دینےکےظن غالب کی شرط پر مقروض سےاتنی رقم کا مطالبہ لازم ہوتا
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۸ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۲۰ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی شنبہ
Tags:
قربانی کا بیان