اگر مسبوق نے یہ نیت کی مقتدی اولی میں ہے تو میں نے اقتدا کی ورنہ نہیں تو اقتدا صحیح ہوئی یا نہیں؟

مسئلہ:- قعدہ اولی میں مقتدی نے امام کو پایا اور مقتدی کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ قعدہ اولی ہے یا قعدہ اخیرہ تو اس طرح نیت کی کہ یہ قعدہ اولی ہے تو میں نے اقتدا کی اور وہ قعدہ اولی ہی تھا تو اقتدا صحیح ہوئی یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ میں اقتدا صحیح نہیں ہوئی اگرچہ قعدہ اولی تھا ، 
  حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ فرماتے ہیں: 
مقتدی نے امام کو قعدہ میں پایا اور یہ معلوم نہ ہو کہ قعدۂ اُولیٰ ہے یا اخیرہ اور اس نیت سے اقتدا کی کہ اگر یہ قعدۂ اُولیٰ ہے تو میں نے اقتدا کی ورنہ نہیں ، تو اگرچہ قعدۂ اُولیٰ ہو اقتدا صحیح نہ ہوئی اور اگر بایں نیت اقتدا کی کہ قعدۂ اُولیٰ ہے، تو میں نے فرض میں اقتدا کی، ورنہ نفل میں تو اس اقتدا سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ قعدۂ اُولیٰ ہو۔ 
(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۰۰ نماز کی شرطوں کا بیان) 
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۲۴ جمادی الآخر ۱۴۴۵ ھجری
۷ جنوری ۲۰۲۴ جنوری یکشنبہ
Previous Post Next Post