کس صورت میں انتشار آلہ ہونے کے باوجود محرم کے بدن کو چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی؟

مسئلہ:- کپڑا موٹا تھا کہ بدن کی حرارت محسوس نہیں ہورہی تھی لیکن انتشار آلہ تھا تو بدن کو چھونے کی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 پوچھی گئی صورت میں اگر چہ انتشار آلہ تھا حرمت مصاہرت ثابت نہیں , 
چنانچہ امام برہان الدین محمود بن احمد بن مازہ مرغینانی بخآری حنفی متوفی ۶۱۶ھ فرماتے ہیں: 
" ثم إن المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته كذلك، وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة "
( ذخیرۃالفتاوی ، جلد سوم صفحہ ۴۵۱ کتاب النکاح ، الفصل التاسع عشر فی بیان اسباب التحریم: دارالکتب العلمیہ) 
یعنی حرمت مصاہرت اس چھونے سے ثابت ہوتی ہے جس میں دونوں کے درمیان کوئی کپڑا حائل نہ ہو ، اگر کپڑا موٹا ہو جس کی وجہ سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہوتو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی اگر چہ آلہ منتشر ہو ،اوراگرکپڑاباریک ہوکہ بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو تو حرمت مصاہرت ثابت ہوجائےگی ، 
 اور محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں
 اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ مس بر ہنہ جسم پر ہو یا کسی ایسے باریک کپڑے پر سے کہ عورت کے جسم کی حرارت اس کے ہاتھ کو پہنچنے سے مانع نہ ہو، جیسے اس زمانے میں جالی یا تنزیب کی کرتیاں ،ورنہ اگر ایسا سنگین کپڑا حائل تھا کہ جسم زن کی گرمی ہاتھ کو محسوس نہ ہونے دے تو حرمت نہیں اگرچہ مس بہزار شہوت ہواہو "
( فتاوی رضویہ مترجم ، جلد ۱۱ صفحہ ۳۲۲ کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رضافاؤنڈیشن لاہور ) 
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ 
۹ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۲۱ جنوری ۲۰۲۴ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post