مسئلہ:- اگر کسی کا دانت اکھڑ کر گر جائے تو سونے کا دانت لگوانا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سونے کا دانت لگوانے کے متعلق ائمہ کا اختلاف ہے البتہ
چاندی کا دانت لگوانا بالاتفاق جائز ہے لیکن امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سونے کا دانت لگوانا بھی جائز ہے ، اور ایسے ہی دانتوں کی مضبوطی کے لئے سونے یا چاندی کے تار سے دانتوں کو بندھوانا جائز ہے ،
محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ لکھتے ہیں
افتادہ دانت (اکھڑا ہوا)کی جگہ چاندی کا دانت لگانا جائز ہے ، امام محمد رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک سونے کے تار اور دانت بھی روا۔
"فی الدر المختار لایشد سنه المتحرك بذھب بل بفضة وجوز ھما محمد اھ وفی ردالمحتار عن التاتارخانیة جدع اذنه او سقط سنه فعند الامام یتخذ ذٰلك من الفضة فقط وعند محمد من الذھب ایضًا اھ ملخصا۔"
در مختار میں ہے کہ ہِلتے ہوئے دانت چاندی سے نہ کہ سونے کی تاروں سے مضبوط نہ کئے جائیں لیکن امام محمد رحمۃ ﷲ تعالی علیہ نے دونوں سے جائز قرار دیاہے فتاوی شامی میں تاتارخانیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کان کٹ جائے یا دانت گر جائے تو امام اعظم رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ صرف چاندی کے بنا کر لگائے جائیں جبکہ امام محمد رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک سونے کے لگانے بھی جائز ہیں اھ ملخصا۔(، فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲ صفحہ ۱٤٤ )
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عنہ
۱۱ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۲۳ جنوری ۲۰۲۳عیسوی سہ شنبہ
Tags:
متفرقات